Wednesday, 25 April 2012



تعلیم : بچپن میں مسلسل بیماری کی وجہ سے ابتدایی تعلیم ہی 6 سے 7 برس کی عمر میں شروع ہوسکی اور زیادہ دن جاری نہ رہ سکی .

والد صاحب چاہتے تھے کی پہلے دینی تعلیم اور قران کریم حفظ کرایا جائے اور پھر دیگر علوم مروجہ کی تدریس ہو لیکن

 والد صاحب وہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، اکتوبر 1937 کو انکے علاوہ ایک بھائی دو بہن اور ماں یعنی پانچ افراد 

پر مشتمل ایک خاندان کو بیارومددگار چھوڈ کر راہی ملک بقا ہوے . تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا اور فکرے معاش کا پہاڈ 

ٹوٹ پڑا، بہت عرصے تک انتہائی ازیت ناک کسمپورسی اور جدوجہد میں گزرا. 


١٩٤٧ میں محکمہ پولیس میں ملازمت  ملی یہاں مشفقوں و مہربان  جناب شہاب الدّین صاحب، واقف ردولوی فاروقی،  
عنایات حسین صاحب اور جناب مظہر ازمان  صاحب جیسے افسرو ں سے شرفے ملاقات  ہوا، ان  دنوں شاعری کا ماحول اور اردو فارسی کا رواج تھا . 
   
متذکرہ بالا حضرات کی خصوصی شفقتوں نے حوصلے تعلیم کا مواقے  فراہم کیا اور ساتھ ہی طبیعت بھی شعر گویی کی طرف مایل ہوئی جب کے نہ خواندگی اس حد تک تھی کے وو تنخوا بھی نشان انگشت ( انگھوٹے کا نشان ) کے ذریعے ہی وصول کیا کرتے تھے .

  انکے ذوق اور علم کی طلب کو دیکھتے ہوئے واقف صاحب اور تسنیم صاحب نے انھے تعلیم کی طرف مہمیز کیا اور  افتاں و خیزان تعلیمی  مراحل  سے قدم قدم گزرتے رہے اور ادبی دنیا  میں روشناس ہونے  کے مواقے فراہم  ہوتے  رھے .

١٩٦٦ کے بعد مولانا یوسف  نسیم قاسمی صاحب اور ماسٹر  منشی عبدلعزیز  صاحب 

سے فارسی  کی تعلیم حاصل کی .

محترم  صحبہ قریشی اور باسط اجینی بنی بزم ہے  سخن بھوپال  جن کے  ذریعے  ایک نسل  علم و فن سے  سراب  ہوئی  ہے  ان کو بھی ١٩٤٧  میں محترم  صحبہ صاحب  کی خدمات میں حاضر  رہکر  تربیت کا  شرف  ملا ، اور یہ کے محترم صحبہ صاحب  ان پر خصوصیت  سے مہربان  تھے چنانچہ وہ  یہ  مانتے  تھے کے میں جو کچھ  بھی ہوں انہی کی بدولت ہوں .

شکریہ 
وقار علی بہادر
زیبا شیخ 
بھوپال و ممبئی